لازوال تہذیبی عکس — ایک کہانی
پرانے شہر کی تنگ گلیوں میں ایک عجیب سی خوشبو بسی رہتی تھی—مٹی، چائے اور روایتوں کی خوشبو۔ انہی گلیوں میں ایک چھوٹا سا مکان تھا، جس کی کھڑکیوں پر نیلے رنگ کے پردے اور دروازے پر لکڑی کی خوبصورت نقش و نگاری تھی۔ اس گھر میں رہتی تھی زہرہ بیگم، جو اپنی سادگی، شائستگی اور تہذیب کی جیتی جاگتی مثال تھیں۔
زہرہ بیگم کا ایک بیٹا تھا، علی۔ جدید دور کا نوجوان، جس کی دنیا موبائل، سوشل میڈیا اور تیز رفتار زندگی تک محدود ہو گئی تھی۔ وہ اپنی ماں کی باتوں کو پرانا خیال سمجھتا اور اکثر کہتا،
“امی، یہ سب اب پرانا ہو گیا ہے، دنیا بدل چکی ہے۔”
زہرہ بیگم مسکرا دیتیں، لیکن ان کی آنکھوں میں ایک خاموش دعا چھپی ہوتی—کہ علی ایک دن تہذیب کی اصل خوبصورتی کو سمجھ جائے۔
ایک دن علی کے دوست اس کے گھر آئے۔ وہ سب مغربی انداز میں گفتگو کر رہے تھے، قہقہے لگا رہے تھے، اور بے تکلفی کی حدیں پار کر رہے تھے۔ زہرہ بیگم خاموشی سے چائے لے کر آئیں، آہستہ سے سلام کیا اور سب کے سامنے چائے رکھ دی۔
دوستوں میں سے ایک نے حیرت سے کہا،
“یار علی، تمہاری امی کتنی مہذب ہیں! آج کل ایسے لوگ کہاں ملتے ہیں؟”
علی پہلی بار خاموش ہو گیا۔ اس نے اپنی ماں کی طرف دیکھا—وہی سادگی، وہی وقار، وہی محبت بھرا انداز۔
اسی شام، جب سب دوست چلے گئے، علی نے دھیرے سے کہا،
“امی، آپ کی یہ باتیں… شاید واقعی خاص ہیں۔”
زہرہ بیگم نے مسکرا کر کہا،
“بیٹا، تہذیب کبھی پرانی نہیں ہوتی، یہ تو انسان کی اصل پہچان ہوتی ہے۔”
وقت گزرتا گیا۔ علی بدلنے لگا۔ اس کی باتوں میں نرمی، انداز میں شائستگی اور رویے میں احترام آ گیا۔ اب وہ اپنی ماں کی ہر بات کو سمجھنے لگا تھا۔
اور یوں، اس چھوٹے سے گھر میں ایک لازوال تہذیبی عکس زندہ رہا—جو نسل در نسل منتقل ہونے کے لیے تیار تھا۔
سبق:
تہذیب وقت کے ساتھ نہیں بدلتی، بلکہ وقت کو خوبصورت بنا دیتی ہے۔

Comments
Post a Comment