عنوان: کمرہ 306 کی سرگوشی
ریاض نے سرینگر کے ایک پرانے ہوٹل میں نائٹ شفٹ شروع کی تھی۔ کمرہ 306 کئی مہینوں سے خالی تھا، لیکن اس رات ریسپشنسٹ نے کہا کہ وہ بک ہو چکا ہے۔ عجیب بات یہ تھی کہ کوئی مہمان آیا ہی نہیں تھا۔
رات 2:13 پر فون بجا۔
“کمرہ 306 میں پانی بھیج دو…” ایک مدھم آواز سنائی دی۔
https://omg10.com/4/10824306
ریاض نے ہچکچاتے ہوئے پانی کی بوتل اٹھائی اور اوپر چلا گیا۔ راہداری غیر معمولی طور پر ٹھنڈی تھی۔ جب وہ کمرہ 306 کے پاس پہنچا تو دروازہ آدھا کھلا تھا۔ اس نے دستک دی، مگر کوئی جواب نہ آیا۔
دروازہ دھکیل کر وہ اندر داخل ہوا۔
کمرہ خالی تھا۔ بستر بالکل سلیقے سے لگا ہوا۔ لیکن باتھ روم کا نل چل رہا تھا۔
“کوئی ہے؟” اس نے آواز دی۔
آئینہ دھندلا تھا، جیسے ابھی کسی نے گرم پانی سے نہایا ہو۔ آہستہ آہستہ آئینے پر الفاظ بننے لگے:
“تم واپس آ گئے…”
ریاض ساکت رہ گیا۔
اچانک دروازہ زور سے بند ہو گیا۔ لائٹس تیزی سے جھپکنے لگیں۔ آئینے میں اسے اپنا عکس نہیں بلکہ ایک سفید چہرے والی شکل نظر آئی جو اس کے پیچھے کھڑی تھی۔
وہ فوراً مڑا۔
کوئی نہیں تھا۔
پھر اس نے اپنے کان کے قریب ٹھنڈی سانس محسوس کی۔
“تمہیں نہیں آنا چاہیے تھا…”
اگلی صبح عملے نے کمرہ 306 اندر سے بند پایا۔ ریاض غائب تھا۔
صرف ایک چیز باقی تھی—آئینہ، جس پر اب لکھا تھا:
“اب وہ یہیں رہے گا…”
کہتے ہیں کہ آج بھی رات 2:13 پر کمرہ 306 سے سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔
کیا آپ وہاں ٹھہرنے کی ہمت کریں گے؟https://amzn.to/4sAQWTj

Comments
Post a Comment